فوری • بریکنگ نیوز

ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان سیز فائر کا معاہدہ
پاکستان کی ثالثی سے 2 ہفتوں کا عارضی معاہدہ طے پا گیا

فائل فوٹو: امریکی بحریہ کا جنگی جہاز خلیج عمان میں (الجزیرہ / رائٹرز)
8 اپریل 2026 کی رات کو ایران اور امریکہ نے دو ہفتوں کے لیے عارضی سیز فائر پر اتفاق کر لیا۔ پاکستان کی ثالثی اس تاریخی کامیابی میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہے۔ تاہم اسرائیل نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ یہ معاہدہ لبنان پر اور حزب اللہ کے خلاف آپریشنز جاری رہیں گے۔

جنگ کا آغاز

28 فروری 2026

ہلاکتیں

3,500+

سیز فائر کی مدت

2 ہفتے

پاکستانی ثالثی

15 امریکی مطالبات + 10 ایرانی نکات

پس منظر

28 فروری 2026 کو شروع ہونے والی اس شدید جنگ میں اب تک 3,500 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی تیل کی سپلائی متاثر کر دی تھی جس کے نتیجے میں عالمی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا۔ تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ اور عالمی مارکیٹوں میں ہلچل مچ گئی تھی۔

ایران کی 10 شرائط

1

آبنائے ہرمز پر مکمل ایرانی کنٹرول اور تمام جہازوں کو محفوظ راستے کی ضمانت۔

2

مشرق وسطیٰ کے تمام امریکی فوجی اڈوں سے فوری اور مکمل انخلا۔

3

تمام اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ اور ایران کے منجمد اثاثوں کی فوری واپسی۔

4

ایران کے یورینیم افزودگی کے حق کو تسلیم کیا جائے۔

5

لبنان (حزب اللہ) سمیت تمام محاذوں پر مکمل سیز فائر۔

6

جنگ کے نقصانات کی تلافی اور مکمل معاوضے کی ادائیگی۔

7

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قانونی طور پر پابند قرارداد۔

8

ایران کے خلاف مستقبل میں کسی بھی قسم کی جارحیت کی ضمانت۔

9

مزاحمتی محور (شام، عراق، یمن) کی مکمل حفاظت اور تحفظ۔

10

آبنائے ہرمز کے لیے سمندری ٹرانزٹ فیس کا نظام متعارف کرانا۔

امریکہ کا موقف

ڈونلڈ ٹرمپ (فائل فوٹو: برٹانیکا)

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیڈ لائن سے پہلے شدید دھمکی دی تھی: “ایک پوری تہذیب آج رات مر جائے گی۔” مگر ڈیڈ لائن سے صرف 90 منٹ پہلے امریکہ نے پیچھے ہٹ گیا۔ وائٹ ہاؤس نے ایران کی 10 نکاتی شرائط کو “بات چیت کی بنیاد” قرار دیا ہے۔ تاہم اسرائیل کو لبنان میں آپریشنز جاری رکھنے کی مکمل اجازت دی گئی ہے۔

“ہم نے ایران کی شرائط کو قابل عمل بنیاد قرار دیا ہے۔ اب بات چیت کا وقت ہے۔” — وائٹ ہاؤس ترجمان

پاکستان کا کردار

وزیر اعظم شہباز شریف (فائل فوٹو: اے پی پی)

پاکستان نے امریکہ کے 15 مطالبات ایران تک پہنچائے اور ایران کے 10 نکاتی پلان کو واشنگٹن منتقل کیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے 10 اپریل کو اسلام آباد میں براہ راست مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی ہے۔ ایران نے پاکستانی ثالثی کو “مثبت اور پھلدار” قرار دیا ہے۔

پاکستان کی منفرد پوزیشن — ایران کے ساتھ 900 کلومیٹر مشترکہ سرحد اور امریکہ کے ساتھ اسٹریٹجک اتحاد — نے اس ثالثی کو ممکن بنایا۔

اسرائیل کا موقف

اسرائیلی فوج کی آئرن ڈوم سسٹم (فائل فوٹو: الجزیرہ)

وزیر اعظم بن یامین نتنیاہو نے واضح کیا کہ یہ سیز فائر لبنان پر ہرگز लागو نہیں ہوتا۔ حزب اللہ کے خلاف آپریشنز جاری رہیں گے۔ اسرائیل نے امریکہ کے فیصلے کی حمایت کی ہے لیکن لبنان کے حوالے سے استثناء کا مطالبہ کیا ہے۔

آئندہ کا لائحہ عمل

10 اپریل 2026 کو اسلام آباد میں براہ راست مذاکرات ہوں گے۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو “مکمل پیمانے کی جنگ” کا سامنا کرنا پڑے گا۔ عالمی رہنما پاکستان کی میزبانی کو خوش آئند قرار دے رہے ہیں۔

نوٹ: یہ عارضی سیز فائر صرف 14 دن کے لیے ہے۔ مستقل امن کے لیے 10 اپریل کے مذاکرات فیصلہ کن ہوں گے۔