Read in English

Wednesday, January 14, 2026

“جنگ بندی کے سائے میں خون بہتا رہا: غزہ میں اسرائیلی حملوں سے 450 سے زائد فلسطینی شہید، انسانیت سسکنے لگی”

 غزہ ایک بار پھر خون اور آنسوؤں میں ڈوبا ہوا ہے۔ جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیلی افواج کی جانب سے تازہ حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں اب تک کم از کم 450 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ مقامی طبی حکام کے مطابق ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت بڑی تعداد میں عام شہری نشانہ بنے ہیں، جس نے جنگ بندی کے دعوؤں پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔



ان حملوں کے ساتھ ساتھ غزہ میں انسانی بحران بدترین شکل اختیار کر چکا ہے۔ وسیع پیمانے پر تباہی، گھروں کی بربادی، اسپتالوں پر دباؤ اور بنیادی سہولیات کی شدید قلت نے عام شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ خوراک، پانی، ادویات اور ایندھن کی کمی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے، جبکہ اسرائیلی ناکہ بندی کے باعث امدادی سامان کی ترسیل بھی شدید متاثر ہے۔

عالمی امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر انسانی امداد کی بلا رکاوٹ رسائی نہ دی گئی تو صورتحال ایک بڑے انسانی المیے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ کئی اسپتالوں میں زخمیوں کے علاج کے لیے سہولیات ناکافی ہو چکی ہیں اور ہزاروں خاندان بے گھر ہو کر کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

بین الاقوامی برادری کی جانب سے جنگ بندی پر عملدرآمد اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی اپیلیں کی جا رہی ہیں، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔ غزہ کے مظلوم عوام آج بھی سوال کر رہے ہیں کہ اگر جنگ بندی ہے تو پھر یہ لاشیں کیوں گر رہی ہیں؟

No comments:

Post a Comment

Post Top Ad

Your Ad Spot

Pages

SoraTemplates

Best Free and Premium Blogger Templates Provider.

Buy This Template