کراچی کے گل پلازہ پر اتوار کی رات ہونے والی شدید آتشزدگی نے نہ صرف شہر کو ہلا دیا بلکہ متاثرین اور زندہ بچ جانے والے افراد کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز کر دیا ہے۔ حادثے کے کئی روز گزرنے کے باوجود متاثرین اپنے پیاروں کا انتظار کرتے ہوئے عمارت کے باہر جمع ہیں، جہاں غم، صدمہ اور بے چینی میں تبدیل ہو چکا ہے۔
حادثے کا پسِ منظر
گل پلازہ، ایم اے جناح روڈ کراچی پر واقع ایک بڑا تجارتی مرکز ہے جس میں تقریباً 1,200 سے زائد دکانیں تھیں۔ اتوار کی رات تقریباً 10:10 بجے کے قریب ایک دکان میں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے آگ بھڑک اٹھی، جس نے چند ہی لمحوں میں پورے پلازے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
آگ کی شدت اور العمارت کی ساخت کی بنا پر فائر فائٹرز اور ریسکیو ٹیموں کو آگ پر قابو پانے میں 24 سے 36 گھنٹے سے زیادہ وقت لگا، اور اب بھی رہائشی اور کاروباری سامان راکھ بن چکا ہے۔
جاں بحق اور گمشدگان
آگ نے اب تک 14 سے 15 افراد کی زندگی لے لی ہے، جن میں ایک فائر فائٹر بھی شامل ہے۔ متعدد لوگوں کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں، جن کی تعداد 60 سے زائد بتائی جاتی ہے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
متاثرین کے خاندانوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، اور زخمیوں کی تعداد بھی تیس کے قریب، جن میں سے کئی کی حالت نازک ہے۔
متاثرین کے جذبات اور احتجاج
واقعے کے بعد متاثرین، جنہیں اپنے عزیزوں کی لاشوں، زخمیوں اور گمشدگان کی تلاش کا سامنا ہے، گل پلازہ کے باہر دن رات بیٹھے ہوئے ہیں۔ کئی افراد نے اپنے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا ہوا محسوس کیا اور احتجاج میں تبدیل کر دیا۔
بعض مشتعل افراد نے عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی تاکہ وہ ذاتی طور پر اپنے عزیزوں کے لیے تلاشی اور بچاؤ کی کوششیں کر سکیں، لیکن سیکیورٹی فورسز اور ریسکیو اہلکاروں نے عمارت کی غیر مستحکم صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں روکا۔
ریسکیو آپریشن اور خامیاں
ریسکیو اہلکاروں نے آگ بجھانے اور تلاشی کے لیے بھرپور کوششیں کیں، لیکن ریسکیو کے عملے پر تنقید بھی سامنے آئی ہے۔ متاثرین اور تاجروں نے دعویٰ کیا ہے کہ ریسکیو ٹیمیں ابتدائی گھنٹوں میں بروقت پہنچنے میں ناکام رہیں اور امدادی سامان مناسب طریقے سے فراہم نہیں کیا گیا۔
احتجاج کرنے والوں کا کہنا ہے کہ آگ بجھانے والے نظام، پانی کے وسائل، حفاظتی آلات، ماسک، حفاظتی جوتے اور دیگر ضروری اشیاء کی کمی نے ریسکیو کام کو مشکل بنا دیا۔ ان کی نظر میں، یہ ناکامیاں حکومت اور متعلقہ محکموں کی تیاری اور انتظامی کمزوریوں کی علامت ہیں
سرکاری ردعمل
محکمہ حکومت سندھ اور کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن نے حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ چیف منسٹر مراد علی شاہ نے متاثرین کے اہل خانہ کے لیے معاوضہ اور امدادی رقم کا اعلان کیا ہے، جبکہ پولیس اور دیگر عہدیدار تحقیقات کے ذریعے آگ کے حقیقی اسباب جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔
متعدد سرکاری اور غیر سرکاری تنظیمیں متاثرین کی مدد کے لیے ہسپتالوں اور امدادی مراکز میں تعینات ہیں، تاہم ابھی تک بہت سے لوگ اپنے پیاروں کے بارے میں بے یقینی کا شکار ہیں
نکات برائے غور
کراچی کی حفاظتی ضوابط اور آگ سے بچاؤ کے نظام کی سنجیدگی پر سوالات اٹھ رہے ہ
متاثرین کی طرف سے جو احتجاج اور ناراضگی سامنے آئی ہے، وہ عوامی احساسات اور حکومتی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان ہے
یہ سانحہ یاد دہانی بن چکا ہے کہ آگ سے بچاؤ کے عملی اقدامات، حفاظتی تربیت اور جلد ردعمل کتنا ضروری ہے۔
Source / References:
Aaj News
Dunya News
Business Recorder
Pakistan Today
Associated Press (AP)

No comments:
Post a Comment