سوئٹزرلینڈ کے شہر داؤس میں جاری ورلڈ اکنامک فورم کے دوران عالمی سیاست ایک نئے موڑ پر کھڑی نظر آ رہی ہے، جہاں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی شرکت محض رسمی نہیں بلکہ ایک اہم عالمی فیصلے سے جڑی ہوئی ہے۔ اس وقت داؤس میں غزہ کے مستقبل پر بننے والے متنازع مگر طاقتور “گزا پیس بورڈ” پر بات چیت ہو رہی ہے، جس کی سرپرستی امریکی قیادت میں کی جا رہی ہے۔
اس عالمی فریم ورک کا مقصد غزہ میں جنگ بندی کے بعد ایک نیا نظام قائم کرنا ہے، جس میں حماس کو غیر مسلح کرنے، عبوری انتظامیہ کے قیام، بین الاقوامی نگرانی اور تعمیرِ نو جیسے نکات شامل ہیں۔ اسی منصوبے کے تحت پاکستان کو بھی ایک ذمہ دار مسلم ریاست کے طور پر شامل کیا جا رہا ہے، جو سفارتی، سیاسی اور انسانی بنیادوں پر کردار ادا کرے گا۔
اس وقت پاکستان واضح مؤقف کے ساتھ اس فورم میں موجود ہے کہ وہ غزہ میں پائیدار امن، فلسطینی حقوق اور دو ریاستی حل کی حمایت جاری رکھے گا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستان کسی ایسے اقدام کا حصہ نہیں بنے گا جو فلسطینی عوام کی مرضی یا مزاحمتی حق کے خلاف ہو، تاہم امن کے قیام اور انسانی بحران کے خاتمے کے لیے عالمی کوششوں میں شامل رہنا ناگزیر سمجھا جا رہا ہے۔
سعودی عرب، مصر، قطر، ترکی، اردن اور دیگر مسلم ممالک کے ساتھ مل کر پاکستان اس وقت ایک حساس سفارتی توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ داؤس میں ہونے والی یہ پیش رفت محض ایک اجلاس نہیں بلکہ غزہ، مشرقِ وسطیٰ اور مسلم دنیا کے مستقبل سے جڑا فیصلہ بنتی جا رہی ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید واضح ہوں گے۔

No comments:
Post a Comment