بلوچستان ایک بار پھر ملک کی سیکیورٹی صورتحال کا مرکز بن گیا، جہاں 31 جنوری 2026 کو صوبے کے مختلف اضلاع میں دہشت گردوں کی جانب سے ہم وقت اور منظم حملے کیے گئے۔ ان حملوں کے فوری بعد ریاستی اداروں نے بھرپور اور فیصلہ کن کارروائی کرتے ہوئے صرف 40 گھنٹوں کے اندر 145 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا اعلان کیا، جسے حالیہ برسوں کی سب سے بڑی سیکیورٹی کامیابیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے کوئٹہ، گوادر، مستونگ، نوشکی اور دیگر حساس علاقوں میں سیکیورٹی تنصیبات اور ریاستی اداروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ حملوں کا مقصد نہ صرف خوف و ہراس پھیلانا تھا بلکہ بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں، بالخصوص سی پیک اور ساحلی علاقوں میں اقتصادی سرگرمیوں کو متاثر کرنا بھی بتایا جا رہا ہے۔
حملوں کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر وسیع پیمانے پر آپریشن شروع کیا۔ اس آپریشن میں زمینی اور فضائی دونوں سطحوں پر کارروائیاں کی گئیں۔ حکام کے مطابق دہشت گرد مختلف گروہوں سے تعلق رکھتے تھے اور ان کے پاس بھاری ہتھیار، بارودی مواد اور جدید مواصلاتی آلات موجود تھے، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ حملے پہلے سے منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے تھے۔
بلوچستان حکومت کے ترجمان نے بتایا کہ یہ کارروائیاں 31 جنوری سے یکم فروری 2026 تک مسلسل جاری رہیں۔ صرف دو دن کے اندر دہشت گردوں کے کئی ٹھکانے تباہ کیے گئے، اسلحہ کے ذخائر قبضے میں لیے گئے اور متعدد سہولت کاروں کو بھی گرفتار کیا گیا۔ حکومتی مؤقف کے مطابق یہ دہشت گرد کارروائیاں پاکستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کی منظم کوشش تھیں، جنہیں ناکام بنا دیا گیا ہے۔
صوبائی اور وفاقی سطح پر حکام نے واضح کیا ہے کہ ریاست دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی پر قائم ہے۔ وزیرِ اعلیٰ بلوچستان نے ایک بیان میں کہا کہ “یہ آپریشن اس بات کا واضح پیغام ہے کہ بلوچستان کے امن سے کھیلنے والوں کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ سیکیورٹی فورسز نے اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر عوام کے تحفظ کو یقینی بنایا ہے۔”
سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ کارروائی اس لیے بھی اہم ہے کہ دہشت گردوں نے ایک ہی وقت میں مختلف علاقوں میں حملے کر کے فورسز کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی، مگر ریاستی اداروں نے نہ صرف اس حکمتِ عملی کو ناکام بنایا بلکہ قلیل وقت میں بڑے پیمانے پر جواب دے کر اپنی برتری ثابت کی۔
عوامی سطح پر بھی اس کارروائی کو سراہا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر شہریوں نے سیکیورٹی فورسز کے حق میں پیغامات شیئر کیے اور بلوچستان میں امن کے قیام کے لیے مزید مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔ تاہم بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی آپریشن کے ساتھ ساتھ سیاسی مکالمہ، ترقیاتی منصوبے اور عوامی اعتماد کی بحالی بھی ناگزیر ہے تاکہ مستقل امن ممکن بنایا جا سکے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق آپریشن کے بعد متاثرہ علاقوں میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے، جبکہ سرچ اور کلیئرنس آپریشنز کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ انٹیلی جنس ادارے ممکنہ نیٹ ورکس اور سہولت کاروں پر نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ مستقبل میں ایسے حملوں کا بروقت تدارک کیا جا سکے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو بلوچستان میں حالیہ کارروائی نہ صرف دہشت گردوں کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے بلکہ یہ ریاست کے اس عزم کا بھی اظہار ہے کہ پاکستان میں امن و استحکام کو کسی صورت یرغمال نہیں بننے دیا جائے گا۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھا جائے گا کہ اس آپریشن کے اثرات بلوچستان کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر کس حد تک مثبت ثابت ہوتے ہیں۔

No comments:
Post a Comment