آزاد جموں و کشمیر کے سینئر اور بااثر سیاسی رہنما بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے 31 جنوری 2026 کو طویل علالت کے بعد اسلام آباد میں انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال کی خبر نے آزاد کشمیر، پاکستان اور کشمیری عوام میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑا دی ہے۔
ابتدائی زندگی اور سیاسی سفر
بیرسٹر سلطان محمود چوہدری 9 اگست 1955 کو چیچیاں، میرپور (آزاد کشمیر) میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے مقامی تعلیم کے بعد اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور قانون کی ڈگری کے بعد سیاست میں قدم رکھا۔ ان کا سیاسی سفر انتہائی کامیاب رہا اور وہ کئی دہائیوں تک آزاد کشمیر کے عوامی و سیاسی نمائندے رہے۔ وہ آزاد کشمیر اسمبلی کے رکن نو بار منتخب ہوئے اور 1996 سے 2001 تک وزیرِ اعظم آزاد کشمیر رہے۔
2021 میں انہیں آزاد جموں و کشمیر کا صدر منتخب کیا گیا، جہاں انہوں نے مسئلہ کشمیر اور دیگر علاقوں کے حقوق کے لیے بھرپور آواز اٹھائی۔
بیماری اور انتقال
بیرسٹر سلطان محمود کچھ عرصے سے طویل بیماری کا شکار تھے اور سیاسی سرگرمیوں سے کافی حد تک دور رہے۔ وہ گزشتہ کئی دنوں سے اسلام آباد کے ایک نجی ہسپتال میں زیر علاج تھے جہاں مختلف پیچیدگیوں کے باعث حالت خراب رہی۔
علالت کی نوعیت:
سرکاری بیانات کے مطابق اُن کی حالت کئی دنوں تک نازک رہی، جس کے بعد انہیں ہسپتال میں زیرِ علاج رکھا گیا۔ انہیں عموماً طویل علالت کے باعث اسپتال میں رکھا گیا تھا، اور آخر کار وہ 31 جنوری 2026 کی شام یا رات اسلام آباد میں انتقال کر گئے۔
ان کی عمر 71 سال تھی جب وہ دنیا سے رخصت ہوئے۔
ہم نیوز
نمازِ جنازہ اور تدفین
قدامت پسندی اور مذہبی روایات کے مطابق، بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی نمازِ جنازہ ان کے آبائی علاقے چیچیاں، میرپور (آزاد جموں و کشمیر) میں 1 فروری 2026 (اتوار) کو 3:00 بجے سہ پہر ادا کی گئی۔
نمازِ جنازہ میں سیاسی رہنماؤں، عوام اور کارکنان نے شرکت کی اور انہیں آبائی قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔ ان کی تدفین میں ہزاروں افراد نے شرکت کی اور انہیں بھرپور عقیدت سے آخری رسومات انجام دیں۔
سیاسی اور عوامی ردِ عمل
بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے انتقال پر نہ صرف آزاد کشمیر بلکہ پاکستان بھر میں سیاسی، سماجی اور عوامی حلقوں نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا:
وفاقی سطح کے ردِ عمل:
صدر پاکستان نے مرحوم کی خدمات کو قابلِ قدر قرار دیا اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ اظہارِ افسوس کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے انہیں ایک مدبر اور عوامی سیاست دان قرار دیتے ہوئے مرحوم کے بلندیِ درجات اور سوگوارانِ خاندان کے لیے صبر و برداش کی دعا کی۔
سینیٹ کے چیئرمین نے انہیں ایک باشعور، اصول پسند اور معزز سیاست دان کہا اور ان کے سیاسی جدوجہد کو آنے والی نسلوں کے لیے رہنما روشنی قرار دیا۔
وفاقی وزیرِ خارجہ نے بھی ان کی خدمات اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے تئیں ان کے عزم کا اعتراف کیا۔
عوامی ردِ عمل
عوام نے سردار کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا، خصوصاً میرپور، مظفرآباد اور آزاد کشمیر کے دیگر شہروں میں سوگوار جلسوں میں لوگوں نے ان کے لیے دعائے مغفرت کی۔
خلاصہ اور یادگار خدمات
بیرسٹر سلطان محمود چوہدری ایک مضبوط سیاسی شخصیت تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی آزاد کشمیر کے عوام کی فلاح، حقوق اور مسئلہ کشمیر کی بین الاقوامی سطح پر ترجمانی کے لیے وقف کی۔ ان کی وفات ایک سیاسی و عاطفی نقصان ہے، خاص طور پر اس وقت جب یوم یکجہتی کشمیر جیسے اہم موقع کے قریب ہے۔

No comments:
Post a Comment