پاکستان اور افغانستان کے درمیان 'اوپن وار': تفصیلی رپورٹ
اطلاع نامہ | تاریخ: 28 فروری 2026 | رمضان المبارک کا دسواں روزہ
تعارف
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی تنازعات نے ایک خطرناک موڑ اختیار کر لیا ہے، جو اب کھلی جنگ کی شکل میں تبدیل ہو چکا ہے۔ پاکستان کی وزارت دفاع نے 'آپریشن غضب للحق' کے تحت افغانستان کے متعدد علاقوں پر فضائی اور زمینی حملے کیے ہیں، جن میں کابل، قندھار، پکتیکا اور دیگر سرحدی صوبے شامل ہیں۔ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ یہ حملے افغان طالبان کی جانب سے سرحد پار حملوں کے جواب میں کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب، افغان طالبان نے جوابی کارروائیاں کیں اور پاکستان کی متعدد چیک پوسٹس پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
یہ تنازعہ مہینوں سے جاری ہے، جو دہشت گردی، سرحدی جھڑپوں اور دونوں ممالک کے درمیان عدم اعتماد کی وجہ سے بڑھتا چلا گیا۔ اب پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے اعلان کیا ہے کہ "صبر ختم ہو چکا ہے اور یہ اب اوپن وار ہے"۔
بیک گراؤنڈ
پاکستان اور افغانستان کے درمیان تنازعات کی جڑیں تاریخی ہیں، خاص طور پر ڈیورنڈ لائن پر اختلافات۔ 2021 میں طالبان کی افغانستان پر واپسی کے بعد، پاکستان کو امید تھی کہ یہ حکومت سرحدی دہشت گردی کو روکے گی، لیکن الٹا، پاکستانی طالبان (ٹی ٹی پی) اور دیگر گروپس کی جانب سے حملے بڑھ گئے۔ حالیہ مہینوں میں، پاکستان نے متعدد بار افغانستان پر الزام لگایا کہ وہ ٹی ٹی پی کو پناہ دے رہا ہے۔
21 فروری 2026 کو پاکستان نے ننگرہار، پکتیکا اور خوست میں فضائی حملے کیے، جو دہشت گرد کیمپس کو نشانہ بنانے کا دعویٰ تھا۔ اس کے جواب میں، 26 فروری کو افغان فورسز نے پاکستانی سرحدی پوسٹس پر حملہ کیا، جس میں 20 سے زائد پاکستانی اہلکار ہلاک ہوئے۔ یہ سلسلہ جاری رہا اور 27 فروری کو پاکستان نے بڑے پیمانے پر حملے شروع کیے۔
حالیہ پیش رفت
پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق، آپریشن غضب للحق میں اب تک:
- 274 سے 297 طالبان جنگجو ہلاک۔
- 89 افغان چیک پوسٹس تباہ۔
- 135 ٹینک اور گاڑیاں ضائع۔
- 29 سے زائد مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں کابل اور قندھار شامل ہیں۔
افغان طالبان نے جوابی حملوں کا دعویٰ کیا ہے، جن میں 19 پاکستانی پوسٹس پر قبضہ اور 55 پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت شامل ہے۔ دونوں اطراف سے سویلین ہلاکتیں بھی رپورٹ ہوئی ہیں، جو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیریس نے "گہری تشویش" کا اظہار کیا ہے۔
پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے جی ایچ کیو کا دورہ کیا اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ملاقات کی، جہاں انہوں نے کہا کہ "وطن کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں"۔
بین الاقوامی ردعمل
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے "خود دفاع کے حق" کی حمایت کی اور کہا کہ "پاکستان سے اچھی دوستی ہے، مداخلت نہیں کریں گے"۔ ایران اور یورپی یونین نے دونوں ممالک سے گفتگو کی اپیل کی ہے۔ اقوام متحدہ نے تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ علاقائی استحکام کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
چین اور روس نے بھی خدشات کا اظہار کیا ہے، کیونکہ یہ تنازعہ علاقائی تجارت اور سیکورٹی کو متاثر کر سکتا ہے۔
ممکنہ اثرات
یہ جنگ دونوں ممالک کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔ پاکستان پہلے ہی معاشی بحران کا شکار ہے، جبکہ افغانستان انسانی بحران سے گزر رہا ہے۔ سویلین ہلاکتیں بڑھنے سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو سکتی ہیں۔ علاقائی طور پر، یہ تنازعہ بھارت، ایران اور وسطی ایشیا کو بھی متاثر کرے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں اطراف فوجی طور پر طویل جنگ نہیں لڑ سکتے، لیکن یہ صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے اگر تیسرے فریق شامل ہوئے۔
نتیجہ
یہ تنازعہ ایک خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، اور فوری طور پر ڈائیلاگ کی ضرورت ہے۔ دونوں ممالک کو اپنے اختلافات بات چیت سے حل کرنے چاہییں تاکہ مزید خونریزی سے بچا جا سکے۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں یہ جنگ اور بھی افسوسناک ہے۔
مزید اپ ڈیٹس کے لیے ہمارا بلاگ فالو کریں۔

No comments:
Post a Comment