پاکستان اور افغانستان کی سرحدی جنگ: شدید کشیدگی اور فضائی حملے
تعارف
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی ایک بار پھر عروج پر پہنچ گئی ہے۔ حالیہ دنوں میں دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی ہیں، جن میں فضائی حملے، زمینی کارروائیاں اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال شامل ہے۔ پاکستان نے "آپریشن غضب للحق" کا آغاز کیا ہے، جبکہ افغان طالبان نے جوابی حملوں کا اعلان کیا ہے۔ یہ تنازع نہ صرف علاقائی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہا ہے بلکہ انسانی المیہ بھی پیدا کر رہا ہے۔ اس آرٹیکل میں ہم اس تنازع کی تفصیلات، پس منظر اور ممکنہ اثرات پر روشنی ڈالیں گے۔
سرحدی علاقے میں افغان فوجی تیاری کرتے ہوئے۔ (تصویر ماخذ: OPB)
حالیہ واقعات کی تفصیل
27 فروری 2026 کی صبح تک، دونوں ملکوں کے درمیان تنازع میں شدت آئی ہے۔ پاکستان کی فضائیہ نے کابل، قندھار، پکتیکا اور ننگرہار سمیت افغان علاقوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔ پاکستانی حکام کے مطابق، ان حملوں میں 133 سے زائد افغان طالبان اہلکار ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ متعدد چیک پوسٹیں، ٹینک اور اسلحہ ڈپو تباہ ہوئے ہیں۔
جواب میں، افغان طالبان نے پاکستان کی سرحد پر حملے کیے اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے 55 سے زائد پاکستانی فوجی ہلاک کیے ہیں، 19 چیک پوسٹیں تباہ کیں اور کئی کو قبضے میں لے لیا۔ ایک افغان فوجی ذرائع نے بتایا کہ 10 پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے اور 13 پوسٹیں قبضہ کی گئیں۔ یہ حملے 26 فروری کی رات کو شروع ہوئے اور کئی گھنٹے جاری رہے۔
طالبان فورسز سرحدی علاقے میں حرکت میں۔ (تصویر ماخذ: الجزیرہ)
- پاکستان کی جوابی کارروائی: پاکستان نے کابل اور دیگر افغان شہروں پر بمباری کی، جسے افغان حکومت نے "غیر اعلانیہ جنگ" قرار دیا ہے۔
6 - ہلاکتیں اور نقصان: پاکستان کا دعویٰ: 36 افغان سیکیورٹی اہلکار ہلاک۔ افغان کا دعویٰ: 100+ پاکستانی ہلاک اور 25 پوسٹیں قبضہ۔
12 - سیاسی ردعمل: پاکستانی وزیراعظم اور صدر نے کہا ہے کہ ملک کی خودمختاری کی حفاظت کی جائے گی۔ سیاسی جماعتیں متحد ہیں۔
پس منظر اور وجوہات
یہ تنازع دیرینہ ہے اور ڈیورنڈ لائن کی متنازعہ سرحد پر مبنی ہے۔ حالیہ اضافہ پاکستان کی طرف سے افغان علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں سے شروع ہوا، جنہیں افغان طالبان نے اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا۔ پاکستان کا الزام ہے کہ افغان سرزمین سے دہشت گرد حملے ہو رہے ہیں، جبکہ افغانستان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی کارروائیاں غیر منصفانہ ہیں۔
فروری 2026 کے آغاز سے ہی تنازع میں اضافہ ہوا، جب پاکستان نے سرحدی علاقوں پر حملے کیے، جس کے نتیجے میں درجنوں ہلاک ہوئے۔ قطر کی ثالثی میں جنگ بندی کی کوششیں ہوئیں، لیکن وہ ناکام ہوئیں۔
افغان فورسز تباہ شدہ علاقے میں تلاشی لیتے ہوئے۔ (تصویر ماخذ: الجزیرہ)
اثرات اور ممکنہ نتائج
یہ جنگ نہ صرف دونوں ملکوں کے لیے تباہ کن ہے بلکہ علاقائی استحکام کو بھی خطرے میں ڈال رہی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں خبردار کر رہی ہیں کہ شہری آبادی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں نے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔
اگر یہ تنازع جاری رہا تو یہ ایک مکمل جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے، جو خطے کی معیشت اور سلامتی کو بری طرح متاثر کرے گا۔

No comments:
Post a Comment