ایران – اسرائیل – امریکہ جنگ
تازہ ترین مکمل رپورٹ
جنگ کا آغاز
۲۸ فروری ۲۰۲۶ کو امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران پر بڑے پیمانے پر حملے شروع کیے۔ امریکہ کا آپریشن "ایپک فیوری" اور اسرائیل کا "روئرنگ لائن" تھا۔ پہلا حملہ امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے کیا گیا جس میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت اعلیٰ قیادت اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
ایران نے جواب میں "آپریشن ٹرو پرامس IV" شروع کیا اور اسرائیل، امریکہ کی خلیجی اڈوں اور دیگر علاقوں پر سینکڑوں میزائل اور ڈرون حملے کیے۔
ایران میں ہلاکتیں اور تباہی
ایرانی ذرائع کے مطابق اب تک ۱,۰۴۵ سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں جن میں شہری اور فوجی شامل ہیں۔ میناب کے ایک لڑکیوں کے اسکول پر حملے میں کم از کم ۱۶۵ بچیوں اور اساتذہ شہید ہوئے۔ انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ شہری ہلاکتیں ۱,۰۰۰ سے زیادہ ہو سکتی ہیں۔
اسرائیل میں ہلاکتیں اور نقصان
ایرانی میزائل حملوں سے اسرائیل میں ۱۱ سے ۱۴ افراد ہلاک ہوئے، جن میں سے ۹ بیت شمش میں ایک ہی حملے میں مارے گئے۔ آئرن ڈوم نے زیادہ تر میزائل روکے لیکن کچھ عمارتیں شدید متاثر ہوئیں۔
فوجی نقصان — بحری جہاز
امریکہ نے ایرانی بحریہ کے ۹ سے ۲۰ جہاز ڈبو دیے ہیں۔ ایرانی بحری ہیڈکوارٹرز اور دیگر تنصیبات کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
عالمی ردعمل — مظاہرے
دنیا بھر میں جنگ کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔ امریکہ، یورپ اور دیگر ممالک میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔

No comments:
Post a Comment