ایران: حکومت مخالف پرتشدد مظاہرے بے قابو، ہزاروں گرفتار، اسپتالوں و مساجد کو شدید نقصان
ایران میں مہنگائی، معاشی بحران اور سیاسی بے چینی کے خلاف شروع ہونے والے احتجاجی مظاہرے اب بے قابو اور پُرتشدد رخ اختیار کر چکے ہیں۔ یہ مظاہرے دسمبر 2025 کے آخر میں شروع ہوئے اور اب ملک کے تمام 31 صوبوں اور سو سے زائد شہروں تک پھیل چکے ہیں۔
مظاہروں میں جھڑپیں مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے مابین شدید ہو گئی ہیں، جس کے نتیجے میں بعض بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق 217 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، تاہم ایرانی حکومت نے ابھی تک اس تعداد کی سرکاری تصدیق نہیں کی ہے۔
دہشت گردی، بد امنی اور تشدد کے باعث کئی شہروں میں بینک، سرکاری عمارتیں، دکانیں، اسپتال اور مساجد کو نقصان پہنچا ہے۔ خاص طور پر تہران میں متعدد مساجد، بینکوں اور اسپتالوں پر حملے اور توڑ پھوڑ کی گئی ہے، جبکہ فائر ٹرک، ایمبولینسز اور بسیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔
حکام نے انٹرنیٹ سروس ملک بھر میں معطل کر دی ہے تاکہ مظاہرین کے رابطوں اور معلومات کے تبادلے کو روکا جا سکے۔ اسی کے ساتھ ہزاروں افراد کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے، جبکہ سیکیورٹی فورسز نے مظاہروں کو دبانے کے لیے سخت اقدامات کیے ہین
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے مظاہروں کو بیرونی طاقتوں کی سازش قرار دیتے ہوئے سخت الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ “جو عناصر تشدد میں ملوث ہیں انہیں کسی قانونی رعایت کے بغیر سزا دی جائے گی۔” دوسری طرف ایرانی حکام نے امریکہ اور دیگر مغربی ممالک پر داخلی معاملات میں مداخلت کا الزام عائد کیا ہے۔
مظاہرین کیا مطالبہ کر رہے ہیں؟
احتجاج کا آغاز معاشی مشکلات، بے روزگار نوجوانوں اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف ہوا تھا، لیکن جلد ہی اس نے سیاسی مطالبات کا رخ اختیار کیا، جس میں آزاد انتخابات، معاشی اصلاحات اور انسانی حقوق کی ضمانت شامل ہیں۔
بین الاقوامی ردعمل
بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایران میں تشدد اور طاقت کے استعمال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کچھ ممالک نے مظاہرین کے حق میں بیان دیا ہے، جبکہ ایران نے ان بیانات کو اپنی خودمختاری میں مداخلت قرار دیا ہے۔

No comments:
Post a Comment