اسلام آباد میں امام بارگاہ پر خودکش حملہ، نمازیوں سمیت درجنوں افراد شہید و زخمی
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے مضافاتی علاقے میں جمعہ کے روز ایک انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں امام بارگاہ میں عبادت کے دوران خودکش حملہ کیا گیا۔ اس المناک حملے کے نتیجے میں 30 سے زائد نمازی شہید جبکہ 150 سے زیادہ افراد زخمی ہو گئے، جن میں کئی کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق خودکش حملہ آور نے اس وقت خود کو دھماکے سے اڑا لیا جب امام بارگاہ میں بڑی تعداد میں لوگ عبادت میں مصروف تھے۔ دھماکا اتنا شدید تھا کہ امام بارگاہ کے اندر اور اطراف میں شدید تباہی پھیل گئی، جبکہ ہر طرف چیخ و پکار اور خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہو گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے فوراً بعد زخمی نمازی مدد کے لیے پکارتے رہے اور ہر طرف افراتفری کا منظر تھا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں، پولیس اور سیکیورٹی ادارے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا جہاں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ اسپتال ذرائع کے مطابق بعض زخمیوں کی حالت نازک ہے، جس کے باعث شہادتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی فورسز نے حملے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ اور کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا ہے۔ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں جبکہ واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات جاری ہیں۔ حکام کے مطابق حملے کی نوعیت اور ذمہ دار عناصر کا تعین کرنے کے لیے خفیہ اداروں کو بھی متحرک کر دیا گیا ہے۔
صدرِ مملکت، وزیراعظم اور دیگر اعلیٰ حکومتی و سیاسی شخصیات نے امام بارگاہ پر ہونے والے اس خودکش حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ وزیراعظم نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی ہے کہ زخمی نمازیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور اس بزدلانہ حملے میں ملوث عناصر کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
یہ حملہ عبادت گاہ کے تقدس اور انسانیت پر حملہ ہے، جس نے ایک بار پھر ملک میں امن و امان کے مسائل کو اجاگر کر دیا ہے۔ پوری قوم اس سانحے پر غمزدہ ہے اور دہشت گردی کے خلاف متحد ہو کر کھڑے ہونے کے عزم کا اظہار کر رہی ہے۔

No comments:
Post a Comment